تارہ ترین

ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کی مدد سے نوسر بازوں نے ملٹی نیشنل کمپنی کو 26 ملین ڈالر کا چونا لگادیا۔

ہانگ کانگ پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شہر میں اپنی نوعیت کا منفرد کیس رجسٹرڈ ہوا،

0

ہانگ کانگ میں ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کی مدد سے نوسر بازوں نے ملٹی نیشنل کمپنی کو 26 ملین ڈالر کا چونا لگادیا۔

ہانگ کانگ پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شہر میں اپنی نوعیت کا منفرد کیس رجسٹرڈ ہوا، ہانگ کانگ پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شہر میں اپنی نوعیت کا منفرد کیس رجسٹرڈ ہوا، جس میں ہیکرز ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ملٹی نیشنل فرم کی سینئر ایگزیکٹیو ڈائریکٹر فنانس کی جعلی ویڈیو بنا کر کمپنی کے 26 ملین ڈالر (7 ارب 27 کروڑ 9 لاکھ روپے) لے اڑے۔

کمپنی کے ملازم نے پولیس کو بتایا کہ ’29 جنوری کو دفتری اوقات میں فرم کے سینئر افسران کو ایک ویڈیو کانفرنس کال موصول ہوئی جس میں کمپنی کی سینئر ایگزیکٹیو ڈائریکٹر فانسن بینک اکاؤنٹس میں رقم منتقل کرنے کی درخواست کی‘۔ اس ہدایت کو سُن پر افسران نے فوری طور پر عمل کیا اور رقم بتائے گئے اکاؤنٹس میں بھیج دی۔

ملازم نے پولیس کو دی گئی تحریری درخواست میں بتایا کہ کانفرنس کال کے بعد 26 ملین ڈالر ٹرانسفر کیے گئے تاہم جب مذکورہ افسر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا جس کے بعد افسران کو دھوکا دہی کا احساس ہوا تو فوری طور پر مزید رقم کی منتقلی کا سلسلہ روک دیا۔

Related Posts

پولیس نے کمپنی کا نام ظاہر کیے بغیر کہا ہے کہ ’’کیس کی تفتیش ابھی جاری ہے اور ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔‘‘

ہانگ کانگ کی میڈیا رپورٹس کے مطابق دھوکا دہی کرنے والوں نے فرم کے برطانیہ میں مقیم چیف فنانس آفیسر ہونے کا بہانہ بنایا۔ قائم مقام سینئر سپرنٹنڈنٹ بیرن چان نے کہا کہ ویڈیو کانفرنس کال میں متعدد شرکاء شامل تھے، لیکن متاثرہ کے علاوہ سب ہی نقلی تھے۔

ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کی مدد سے کی گئی ویڈیو کانفرنس میں شریک تمام افراد کی ریکارڈنگ پہلے کی گئی تھی جبکہ حیران کن طور پر وہ کانفرنس کے دوران آپس میں گفتگو اور ردعمل بھی دے رہے تھے، اس میں جو اصلی کردار تھا وہ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کی صورت میں بیٹھا ہوا تھا۔

شکایت رجسٹرڈ ہونے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے میں ملوث افراد کا سراغ لگانے کیلیے کوشش شروع کردی ہے تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ اس طرح کی واردات میں لوگوں کو پکڑنا ممکن نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں  سعودی عرب میں سی سی ٹی وی کی ریکارڈنگ پبلک کرنا خلاف قانون قرار
Leave A Reply

Your email address will not be published.