تارہ ترین

بھٹو اور کیسنجر: عمران خان نے ذوالفقار بھٹو کے خلاف کس ’بیرونی سازش‘ کا حوالہ دیا؟

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کو ایک بڑے جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے جیب سے ایک خط نکال کر لہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بیرونِ ملک سے ان کی حکومت گرانے کی سازش ہو رہی ہے اور انھیں ’لکھ کر دھمکی دی گئی ہے۔‘

0

عمران خان نے اپنی تقریر میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا بھی حوالہ دیا جنھیں نے 45 برس قبل پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کی جانے والی ایک انتہائی جذباتی تقریر میں الزام لگایا تھا کہ ان کی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک کے پیچھے امریکہ ہے جو انھیں اقتدار سے نکالنا چاہتا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ذوالفقار علی بھٹو نے جب ملک کو آزاد خارجہ پالیسی دینے کی کوشش کی، ان کی خود داری ہمیشہ پسند تھی، تو فضل الرحمٰن اور نواز شریف کی اس وقت کی پارٹیوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک چلائی اور آج جیسے حالات بنا دیے گئے اور ان حالات کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی۔‘

ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ ’یہ ایک بہت بڑی عالمی سازش ہے جسے امریکہ کی مالی مدد حاصل ہے تاکہ میرے سیاسی حریفوں کے ذریعے مجھے نکال دیا جائے۔‘

اس کی وجہ بتاتے ہوئے بھٹو نے کہا کہ ’ویتنام میں امریکہ کی حمایت نہ کرنے اور اسرائیل کے مقابلے میں عربوں کا ساتھ دینے پر امریکہ انھیں معاف نہیں کرے گا۔‘

ایک گھنٹے اور 45 منٹ تک جاری رہنے والی اس تقریر میں انھوں نے امریکہ کو ایک ہاتھی قرار دیا جو بھولتا ہے نہ معاف کرتا ہے۔

بقول بھٹو امریکہ کی سازش کامیاب ہوئی اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پی این اے کی تحریک سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنرل ضیاالحق نے پانچ جولائی 1977 کو ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔

اس کے بعد بھٹو پر نواب محمد احمد خان قصوری کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا۔ عدالت میں اپنے بیان میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ان کے ساتھ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ انھوں نے پاکستان کو ایک جوہری طاقت بنانے کا عزم کر لیا تھا اور امریکہ کے وزیرِ خارجہ ہنری کیسنجر کے خبردار کرنے کے باوجود جب انھوں نے جوہری پروگرام سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا تو ہنری کیسنجر نے انھیں دھمکی دی ‘ تمھیں ایک خوفناک مثال بنا دیا جائے گا۔‘

یہ بھی پڑھیں  روسی صدر پیوٹن 24 سال بعد شمالی کوریا کے دورے پر پہنچ گئے

امریکی وزیرِ خارجہ کا یہ مبینہ جملہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آج بھی گونج رہا ہے اور پاکستان آج جن حالات کا سامنا کر رہا ہے اس میں اس دھمکی اور اس کے نتائج کا بہت بڑا کردار ہے۔ تاہم اس کے گواہ صرف ذوالفقار علی بھٹو ہی ہیں جو اپنے اقتدار کے آخری دنوں اور گرفتاری کے بعد بھی مسلسل چیخ چیخ کر یہ بتانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان کے خلاف امریکہ سازش کر رہا ہے اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں اور پاکستان کے مقامی صنعتکار جن کی صنعتیں قومی تحویل میں لی گئی تھیں اس سازش میں شامل ہیں۔

بھٹو اسی نکتے پر پاکستان کے عوام کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن دیر ہو چکی تھی۔ اس دوران انھوں نے کئی مقامات پر ہنری کیسنجر کی اس دھمکی کے اپنے دعوی کو دہرایا۔ بھٹو نے اپنے مقدمے میں لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ کے سامنے، جس کی سربراہی مولوی مشتاق کر رہے تھے، یہ بات کہی کہ انھیں امریکی وزیرِ خارجہ ہینری کیسنجر نے دھمکی دی تھی۔

ہنری کیسنجر کے اس جملے ‘تمھیں ایک خوفناک مثال بنا دیں گے’ کی کسی آزادانہ ذرائع سے تصدیق تو نہیں ہو سکی ہے لیکن اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ڈپٹی چیف مشن جیرالڈ فیورسٹین نے اپریل 2010 میں پاکستانی میڈیا کو اپنے انٹرویو میں تصدیق کی تھی کہ وہ ایک پروٹوکول آفیسر کی حیثیت سے 10 اگست 1976 کو لاہور میں ہونے والی اس میٹنگ کے عینی شاہد ہیں جس میں بھٹو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کے بارے میں ہینری کیسنجر کی وارننگ کو مسترد کر دیا تھا۔

Related Posts
یہ بھی پڑھیں  متحدہ عرب امارات میں اسقاط حمل کی اجازت دینے کی قرارداد منظور

انھوں نے ایک مقامی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکہ کو پاکستان کے ایٹمی منصوبے پر تشویش تھی جو انڈیا کی ایٹمی صلاحیت کی برابری کرنے کے لیے تھا اور اسی لیے ہینری کیسنجر کو بھیجا گیا تھا کہ وہ بھٹو کو خبردار کر دیں۔

‘یہ درست ہے کہ بھٹو نے اس وارننگ کو مسترد کر دیا اور ایٹمی پروگرام کو جاری رکھا۔ میں اس وقت ایک پروٹوکول آفیسر تھا جب اگست 1976 میں کیسنجر پاکستان آئے تھے اور لاہور میں بھٹو سے ملے تھے۔’
جیرالڈ فیورسٹین نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا تھا کہ اس وقت امریکہ میں انتخابات قریب تھے اور ڈیموکریٹس کے جیتنے کے بہت زیادہ امکانات تھے اور وہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کی پالیسی پر سختی سے عمل کرنا چاہتے تھے اور اس سلسلے میں پاکستان کو ایک مثال بنانا چاہتے تھے۔ کیسنجر نے بھٹو کو ایٹمی پروگارم ترک کرنے کی صورت میں اے سیون اٹیک بمبار طیارے دینے کی پیشکش بھی کی تھی اور بصورتِ دیگر اقتصادی اور فوجی پابندیوں کے بارے میں بتایا تھا۔

اپنے انٹرویو میں جیرالڈ فیورسٹین نے بھٹو کو اپنی کمزوریوں کے باوجود پاکستان کا سب سے باصلاحیت، ذہین اور قابل سیاستدان قرار دیا تھا۔

ذوالفقار علی بھٹو اور امریکی صدر فورڈ، وزیرِ خارجہ ہینری کیسنجر اور دیگر امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کی حرف بہ حرف تفصیلات امریکی محکمہ خارجہ کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔ اس ریکارڈ میں یہ جملہ تو نہیں ملتا کہ ‘ہم تمھیں ایک خوفناک مثال بنا دیں گے’ لیکن اس میں دلچسپ مکالمات ہیں جن سے بھٹو کی مختلف معاملات پر گرفت کا اندازہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  نصرت فتح علی خان کی ’ان سنی قوالی‘ کے ساتھ نایاب البم ریلیز کیلئے تیار

مثال کے طور پر 183 میمورینڈم آف کنورسیشن میں 31 اکتوبر سنہ 1974 میں اسلام آباد میں امریکی اور پاکستانی سفارتکاروں کی موجودگی میں بھٹو اور کیسنجر کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کیسنجر امریکی کاشتکاروں کا ذکر کرتے ہیں جن سے معاملات طے کرنے میں خود ان کو اور امریکی حکومت کو مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

کیسنجر کہتے ہیں کہ امریکی کاشتکاروں کو ملک میں اضافی پیداوار کے ماحول میں اپنی اشیاء ایک فری مارکیٹ میں بیچنے کی عادت ہے جبکہ اس وقت حالات مختلف ہیں اور ملک میں وسائل کو مختص کرنے کا مسئلہ ہے۔ تو بھٹو کہتے ہیں کہ ‘مجھے یاد ہے کہ کچھ عرصہ قبل غالباً ہارورڈ یونیورسٹی کے کچھ ماہرین نے مجھے یہ مشورہ دیا تھا کہ پاکستان کو گندم کی پیداوار میں اضافے کو چھوڑ کر صرف صنعتی پیداوار پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ امریکہ میں ہمیشہ گندم کی اضافی پیداوار ہو گی اور پاکستان کی ضروریات پوری ہوتی رہیں گی۔’

جیرالڈ فیورسٹین کے علاوہ امریکہ کے سابق اٹارنی جنرل رامسے کلارک نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ‘میں سازشی تھیوریز پر تو یقین نہیں رکھتا لیکن چلی اور پاکستان میں ہونے والے فسادات میں بڑی مماثلت ہے۔ چلی میں بھی سی آئی اے نے مبینہ طور پر وہاں صدر سیلواڈور الاندے کا تختہ الٹنے میں مدد کی۔‘

رامسے کلارک، جنھوں نے بھٹو پر چلنے والے مقدمے کو خود دیکھا تھا، لکھا کہ ایک مذاق مقدمہ جو ایک کینگرو کورٹ میں لڑا گیا۔

رامسے کلارک ذوالفقار علی بھٹو کا مقدمہ لڑنا چاہتے تھے اور اس سلسلے میں پاکستان گئے تھے لیکن انھیں جنرل ضیاالحق نے اس کی اجازت نہیں دی۔ انھوں نے بھٹو کی پھانسی کو ‘قانونی سیاسی قتل’ قرار دیا تھا۔ رامسے کلارک کا اس سال 9 اپریل کو 93 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا

Leave A Reply

Your email address will not be published.