تارہ ترین

شہباز شریف وزیراعظم پاکستان منتخب

ہم نے صبر و تحمل سے کام لیا، کبھی بدلے کی سیاست کا نہیں سوچا: شہباز شریف

0

اسلام آباد(ڈیلی مسافت آن لائن)مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کےامیدوار میاں محمد شہباز شریف وزیراعظم پاکستان منتخب ہو گئے،شہبازشریف 201ووٹ لیکر دوسری بار وزیراعظم منتخب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کے امیدوار عمر ایوب نے 92ووٹ حاصل کئے۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وزیراعظم کے انتخاب کیلئے سپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کااجلاس ہوا،مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کےامیدوار شہباز شریف اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کے عمر ایوب مدمقابل تھے، ارکان اسمبلی اپنی اپنی جماعت کے امیدوار کو ووٹ کاسٹ کیا۔
شہبازشریف قومی اسمبلی کے سہولیویں قائدا یوان منتخب ہوگئے،شہبازشریف پاکستان کے 24ویں منتخب وزیراعظم ہیں،سپیکر ایاز صادق نے کہاکہ میاں محمد شہبازشریف 201ووٹ لے کر وزیراعظم پاکستان منتخب ہوئے،عمر ایوب خان کو 92ووٹ ملے،اراکین اسمبلی کی جانب سے شہبازشریف کو وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دی گئی۔

Related Posts

قبل ازیں سپیکر قومی اسمبلی کی ہدایت پر ایوان کے دروازوں کو لاک لگا دیئے گئے،پانچ منٹ گھنٹیاں بجانے کے بعد ایوان کے دروازے بند کردیئے گئے،گھنٹیاں بجانے کا مقصد تمام اراکین کو اسمبلی کے اندر جمع کرنا ہے،قائد ایوان کے انتخاب تک قومی اسمبلی ہال سے نہ کوئی باہر جا سکے گا نہ اندر آ سکے گا۔
سپیکر نے قائد ایوان کے انتخاب کے عمل کا آغاز کردیا،سپیکر نے وزیراعظم کے انتخاب کا طریقہ کار پڑھ کر سنایا، ایاز صادق نے کہاکہ شہبازشریف اور عمر ایوب کے درمیان قائد ایوان کا مقابلہ ہوگا، شہبازشریف کے حق میں ووٹ کیلئے ارکان دائیں طرف کی لابی اے میں جائیں،عمر ایوب کے حق میں ارکان لابی (بی)میں جائیں ،نواز شریف اور شہبازشریف لابی (اے)میں چلے گئے،عمر ایوب کو ووٹ دینے والے ارکان لابی(بی)میں نام نوٹ کروا کر چلے گئے۔

نومنتخب رکن اسمبلی جام کمال نے بطور رکن قومی اسمبلی کا حلف اٹھا لیا، سپیکر ایاز صادق نے ان سے حلف لیا،قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی ارکان نے شور شرابا شروع کردیا،سنی اتحاد کونسل کے ارکان سپیکر ڈائس کے سامنے بیٹھ گئے، ن لیگ کے ارکان کی جانب سے گھڑی چور کے نعرے لگائے گئے،مسلم لیگ ن کے ارکان نے اپنے ڈیسک پر نوازشریف اور شہباز شریف کے پوسٹر رکھ لئے۔
اد رہے کہ 336رکنی ایوان میں وزارت عظمیٰ کیلئے 169ووٹ درکارہیں،اتحادی جماعتوں کو 209جبکہ سنی اتحاد کونسل کو 91ارکان کی حمایت حاصل ہے،شہبازشریف کوپیپلزپارٹی، ایم کیو ایم، آئی پی پی اور دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں  وزیراعلیٰ پنجاب : وزارتوں اور محکموں کی ری اسٹرکچرنگ کا فیصلہ
Leave A Reply

Your email address will not be published.