تارہ ترین

قلمی برادری ذہنی پسماندگی کاشکار کیوں؟

تحریر پروفیسر محمد اویس کھوکھر

0

قلمی برادری ذہنی پسماندگی کا شکار کیوں ہے یہ سوال ہر ایک اہل علم کے ذہن میں ہونا چاہیے کیونکہ اہل علم کی وجہ سے ہی یہ معاشرہ قائم ہے قلمی برادری میں
صرف نثر نگار ، ڈرامہ نگار ،افسانہ نگار ہی شامل نہی ہیں بلکہ ہر ایک شخص شامل ہے جو کہ ادب سے منسلک ہے درحقیقت ادب ہر ایک زبان کا ہوتا ہے چاہے وہ کسی بھی خطے کی زبان ہو ہمارے پیارے ملک پاکستان یا یوں کہنا
بے جا نہ ہوگا کہ برصغیر پاک و ہند میں ایک ادیب کی کوئی عزت نہیں کرتا ہے کیونکہ ہم ادیب کو اتنی ہی عزت دیتے ہیں جتنی دیر تک ہم اس کے کسی شعر کو سنتے یا پڑھتے ہیں یا پھر ہم اس کے افسانے یا کالمز کو پڑھتے ہیں بس اتنی ہی دیر تک ہم اس کی لکھی ہوئی تحریر سے متاثر رہتے ہیں جب تک ہم وہ پڑھ رہے ہوتے ہیں پھر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک ادیب کتنی محنت اور لگن سے ہمارے لیئے کچھ لکھتا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ اپنے نصاب میں جتنے بھی عظیم لکھاریوں شاعروں کی زندگیوں کا مطالعہ کرتے ہیں دراصل انکی زندگیاں بڑی مشکل میں گزرتی ہوئی ہوتی ہیں انکے گھروں میں بھوک کے لالے پڑے رہتے تھے وہ پسماندگی کی حالت میں اپنی زندگی کو گزار دیتے تھے یہ بہت بڑا عنوان ہے اگر سوچا جائے تو اس پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے کہ قلمی برادری ذہنی پسماندگیکا کیوں شکار اس میں بیت ساری تحقیق کی ضرورت ہے تب جا کر ہمیں اس مسئلہ کا حل مل سکے گا کیوں کہ یہ کوئی عام مسئلہ نہی یہ ان لوگوں کی زندگیوں کا مسئلہ ہے جو ہمارے لیے کچھ لکھتے ہیں اور ایسا کچھ لکھتے ہیں جو کہ ہماری زندگیوں کو متاثر کر دیتا ہے چند ایک وجوہات جو کہ اس مسئلہ کے متعلق ہیں یہاں میں آپ لوگوں کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا
یہ ہمارا بہت بڑا المیہ ہے کہ ہمارے ملک پاکستان کی اپنی قومی زبان اردو ہونے کے باوجود ہم لوگ اس زبان کی ترقی و ترویج کےلئیے کبھی نہ تو کوشاں ہوئے انجمنیں بھی بنتی رہیں مگر کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی دراصل ایک ادیب کی اپنی بھی کمزوری ہے کہ وہ اپنی زبان یعنی یوں کہا جائے کہ اسے اپنے مضمون کا علم ہی نہی ہوتا وہ اس علم پر مکمل عبور ہی نہی رکھتا ہے بے تکی باتیں کرنے سے وہ خود اپنے ہی معیار کو گرا دیتا ہے اور دوسرا جب ایک ادیب کسی بھی امیر زادے یا بادشاہ کو خوش کرنے کے لیے کچھ لکھے گا تو اس کا معیار تو خود ہی گرے گا ہی نا آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے مزید تفصیل میں جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے اور پھر ہمارے معاشرے کے حالات ہی ایسے ہیں کہ ہم بس کسی ادیب کی تحریر کو وقتی سکون کے لئے ہی پڑھتے ہیں کبھی بھی ہم نے ایک ادیب یا لکھاری کی ذاتی زندگی میں جھانکتے کی کوشش ہی نہی کی وہ ذہنی پسماندگی کا شکار کیوں نہ ہو مانا کہ ایک شاعر داد کا بھوکا ہوتا ہے مگر اس داد کا اس نے اچار ڈالنا ہے بھائی جب اس کے گھر کا چولہا ہی نہی جلے گا اس کے بچے بھوکے سوئیں گے وہ خود بھوکا سوئے گا معاشرے میں اسکی عزت تو بہت ہوگی مگر کبھی بھی لوگ اس کی ذاتی زندگی سے واقف نہی ہونگے تب تک قلمی برادری ذہنی پسماندگی کا شکار ہی رہے گی ایک ادیب کو اپنی عزت اپنا معیار برقرار رکھنے کے لیے اچھے کپڑوں کی بھی ضرورت ہے دنیا کی ہر چیز کی ضرورت ہے مگر وہ کسیے حاصل کرے اس کے پاس تو قلم ہے اور قلم روٹی تو نہی دے سکتی ہے نا یہ حقیقت ہے جب تک ایک ادیب کے مالی حالات ٹھیک نہی ہونگے وہ ذہنی پسماندگی کا شکار ہی رہے گا اور اس طرح سے وہ آسودہ حالی میں اپنی زندگی بسر کرتا رہا گا میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایک ادیب کی ذہنی پسماندگی تب ہی دور ہوگی جب اسے دو وقت کی روٹی اور زندگی کی تمام سہولیات میسر ہونگی تب ہی وہ ذہنی طور پر مطمئن ہوگا اور میں سمجھتا ہوں کہ قومی سطح پر بھی ہمیں اپنی اردو زبان کے فروغ کے لیے بھی کام کرنا ہوگا جب تک ہم اپنی اردو زبان کو اہمیت نہیں دیں گے میرے خیال میں تو قلمی برادری ذہنی پسماندگی کا شکار ہی رہے گی ہم جب اپنی اردو زبان کے فروغ کے لئے آنے والی نسلوں کو اپنی زبان کی اہمیت کے بارے آگاہ کرتے رہیں گےتب ہم کامیاب ہونگے
اور جب تک ہمارے ملک کے قلمکار ذہنی طور پر مطمئن ہی نہی ہونگے تب تک ہمارا ملک کیسے ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا کیونکہ اہل علم اور اساتذہ ہی ایک ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں وہ قوم کے معمار ہیں حکومت اور اخبارات اور سوشل میڈیا کی ویب سائٹس کے مالکان کو چاہئے کہ وہ ادیبوں کی حوصلہ افزائی کردیا کریں تا کہ انکی بھی مالی مشکالات ختم ہوں اور محنت سے اپنے ملک کی خدمت اور ترقی و ترویج میں اپنا مثبت کردار ادا کرسکیں میں یہ سمجھتا ہوں کہ نہ صرف قلمی برادری بلکہ تمام علماء اساتذہ کرام آئمہ کرام کی اگر مالی مشکلات حل ہو جائیں تو وہ ذہنی کوفت اور پریشانی سے نکل آئیں گے سب بڑی وجہ یہی ہے کہ مالی مشکالات کی وجہ سے قلمی برادری ذہنی پسماندگی کا شکار ہے میری یہی دعا ہے کہ اللہ پاک اہل علم کی زندگیوں میں بھی برکت اور خوشحالی لائے اور اہل قلم یونہی ہمیں اپنے علوم سے بہرہ مند کرتے رہیں آمین

Leave A Reply

Your email address will not be published.